امریکا کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے پر ایران نے دفاعی پوزیشن سے نکل کر ’’مکمل جارحانہ‘‘ حکمتِ عملی اپنانے کا عندیہ دے دیا۔ تہران کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے کی کوششیں تعطل کا شکار ہونے کے بعد آبنائے ہرمز اور خطے میں دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز میں امریکی بحری ناکہ بندی توڑنے کے لیے ’’بروقت اور درست‘‘ کارروائی کی جا سکتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان حتمی معاہدے کی توقع تھی تاہم آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے معاملے پر اختلافات کے باعث مذاکرات میں پیش رفت نہ ہو سکی۔
ایران نے امریکا کو مؤقف پر عمل درآمد کے لیے مزید چند ہفتوں کی مہلت دینے کا عندیہ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سفارتی کوششیں مکمل طور پر ناکام ہونے کی صورت میں تہران آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کرے گا۔
مذاکرات کی ناکامی پر ایران کا دفاعی کے بجائے جارحانہ حکمتِ عملی اپنانے کا اعلان














