کوئٹہ: بلوچستان ویمن پروموٹ ٹیلنٹ کے زیرِ اہتمام منعقدہ تقریب میں محترمہ بشریٰ رند نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں تعلیمی شعبے سے وابستہ شخصیات، اسکولوں کے پرنسپلز، ڈائریکٹرز اور دیگر شرکاء موجود تھے۔ اس موقع پر تعلیمی شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ بشریٰ رند نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی میں اساتذہ کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ کوئی شخص ڈاکٹر، انجینئر، افسر یا کسی دوسرے شعبے میں کامیاب مقام حاصل نہیں کرسکتا جب تک اس کی تعلیم و تربیت میں کسی استاد کی محنت شامل نہ ہو۔ اس لیے اساتذہ، پرنسپلز اور تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد کی خدمات کو تسلیم کرنا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں تعلیمی ادارے چلانے والے افراد کو مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں صرف تعلیمی اداروں پر تمام ذمہ داری عائد کرنے کے بجائے والدین اور معاشرے کو بھی اساتذہ، پرنسپلز اور ڈائریکٹرز کا بھرپور ساتھ دینا چاہیے۔ بچوں کی تعلیم، کردار سازی اور بہتر شخصیت کی تشکیل والدین اور تعلیمی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
محترمہ بشریٰ رند نے بلوچستان کی خواتین کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے آگے بڑھنے میں خاندان کا اعتماد اور معاشرے کی حمایت انتہائی اہم ہے۔ معاشرے میں ایسی مثبت تبدیلی کی ضرورت ہے جہاں خواتین کو کھلے دل اور مثبت سوچ کے ساتھ قبول کیا جائے اور تعلیم و پیشہ ورانہ میدان میں آگے بڑھنے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔اپنے تعلیمی سفر اور تجربات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب والدین کو گھر گھر جا کر بچوں، بالخصوص بچیوں، کو اسکول بھیجنے کے لیے قائل کرنا پڑتا تھا۔ بعض والدین یہ سمجھتے تھے کہ بچیوں نے شادی کے بعد گھر سنبھالنا ہے، اس لیے ان کی تعلیم ضروری نہیں، تاہم مسلسل کوششوں کے ذریعے اس سوچ کو تبدیل کرنے کی جدوجہد کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے تعلیمی ادارے میں 30 فیصد بچے مفت تعلیم حاصل کررہے ہیں جبکہ ضرورت مند بچوں کو کتابیں اور یونیفارم بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق تقریباً 10 ہزار بچے میٹرک مکمل کرکے آگے بڑھ چکے ہیں اور متعدد طالبات مختلف شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کرچکی ہیں۔
محترمہ بشریٰ رند نے والدین پر زور دیا کہ وہ بچوں سے متعلق معاملات میں صرف تنقید کے بجائے اساتذہ اور تعلیمی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات بچوں کی بہتر تعلیم، نظم و ضبط اور کردار سازی کے لیے اساتذہ کو سختی بھی کرنا پڑتی ہے، لہٰذا والدین کو تعلیمی اداروں کے مثبت کردار کو سمجھتے ہوئے ان کی معاونت کرنی چاہیے۔انہوں نے تعلیم کے شعبے سے وابستہ افراد کی خدمات کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم کی خدمت آنے والی نسلوں کی تعمیر ہے اور اس کا فائدہ طویل عرصے تک معاشرے کو پہنچتا رہتا ہے۔ جو لوگ بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے کام کررہے ہیں، ان کی خدمات کو سراہنا اور ان کی مدد کرنا ضروری ہے۔
محترمہ بشریٰ رند نے بلوچستان ویمن پروموٹ ٹیلنٹ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے پروگرام کے تمام منتظمین کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ باصلاحیت افراد، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایسی سرگرمیاں قابلِ تحسین ہیں۔انہوں نے امن کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی ترقی اور مضبوط معاشرے کے لیے امن، بچوں اور خواتین کا احترام اور نئی نسل کے محفوظ مستقبل کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
تقریب کے اختتام پر محترمہ بشریٰ رند نے منتظمین اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تعلیم اور سماجی خدمت کے میدان میں کام کرنے والے افراد کے لیے مزید کامیابیوں کی دعا کی۔
بلوچستان ویمن پروموٹ ٹیلنٹ پروگرام، تعلیم کے فروغ اور باصلاحیت افراد کی حوصلہ افزائی پر زور













