Royal TV

News you can trust

Advertisement

بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں صورتحال پر مولانا فضل الرحمن کی حقائق پر مبنی خوفناک باتیں۔۔

ہمارا صوبہ، حضرت! آپ لوگ اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ شاید آپ حضرات کو یہاں کا ادراک نہ ہو یا لاہور میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو اتنا ادراک نہ ہو کہ دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر اس وقت حکومت کی کوئی رِٹ نہیں ہے۔لکی مروت ہو، بنوں ہو یا ٹانک، وہاں پولیس کا چین آف کمانڈ ٹوٹ چکا ہے۔ وہاں پولیس نے کمیٹیاں بنا دی ہیں، ناکہ بندیاں کی ہوئی ہیں اور راستے روکے ہوئے ہیں۔ وہ نہ DPO کے آرڈر کو تسلیم کرتے ہیں، نہ DIG اور نہ ہی IG کے آرڈر کو مانتے ہیں؛ انہوں نے مکمل طور پر اپنا الگ کمانڈ بنا لیا ہے۔ کمیٹی کا سربراہ جو کہتا ہے، وہی ہوتا ہے۔اس طریقے سے ابھی جو ہنگو میں واقعات ہوئے ہیں، پولیس کا پورا کمپاؤنڈ طالبان نے گھیرے میں لے لیا تھا۔ پھر انہوں نے علماءِ کرام سے درخواست کی کہ آپ ان لوگوں سے بات کریں۔ علاقے کے علماءِ کرام نے وہاں جا کر بات چیت کی تو انہوں نے کہا کہ ہم پولیس والوں کو آزاد کر دیں گے، لیکن انہیں اسلحہ چھوڑنا پڑے گا اور ہم اس کی ویڈیو بھی بنائیں گے۔ اس پر DPO نے کہا کہ ٹھیک ہے، ہمیں دونوں باتیں منظور ہیں۔ اگلے روز معلوم ہوا کہ چھ اہلکار ابھی بھی ان کے پاس ہیں۔ دوبارہ علماءِ کرام سے درخواست کی گئی کہ ان کو بھی چھڑوائیں۔ علماءِ کرام نے جا کر ان چھ بندوں کو بھی آزاد کرایا، اور صورتحال یہ تھی کہ وہ ایک ایک پولیس والے سے گلے ملتے اور ساتھ دس دس ہزار روپے بھی دیتے رہے۔ یہ تو وہاں کی پولیس کی حالت ہو چکی ہے۔ اس وقت کرم اور اورکزئی کے علاقوں میں کچھ باقی نہیں رہا۔ یہ تمام پشتون علاقہ ہے اور خیبر پختونخوا کے ان علاقوں میں حکومت کی رِٹ بالکل ختم ہو چکی ہے۔
حضرت! آپ ہماری بات مانیں، یا تو ہم عمداً اس کی اجازت دے رہے ہیں یا پھر پردے کے پیچھے کوئی ایسی انڈر اسٹینڈنگ ہے جو عوام کو نظر نہیں آ رہی، اور یہ سارا کچھ آخر کیوں ہو رہا ہے؟
بلوچ علاقوں میں، حضرت! آپ چلتن کو عبور کریں، وہاں سے آگے چاغی تک ہو یا مستونگ اور خضدار تک، میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ صرف شہروں کو بچانے کے لیے شہروں کے گرد خندقیں کھودی گئی ہیں۔ فوج نے مورچے سنبھال لیے ہیں اور وہاں ایکوپمنٹس پہنچائے جا رہے ہیں تاکہ صرف ضلعی و تحصیل ہیڈ کوارٹرز کو بچایا جا سکے، جبکہ باقی دیہات اور میدانی علاقے انہی کے حوالے ہیں۔ اس سنگین صورتحال کو آخر کیوں ایڈریس نہیں کیا جا رہا؟ اور اگر میں یہ بات اٹھاتا ہوں تو مجھے کیوں مجرم گردانا جاتا ہے؟ صحافی اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں ان علاقوں کا دورہ کریں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔اس صورتحال میں جب آپ کے اپنے گھر میں آگ لگی ہو اور بھائی آپس میں بیٹھ کر گھر کی تقسیم کے منصوبے بنا رہے ہوں، کیا یہ کوئی معقول بات ہے؟ آپ نے پہلے آگ بجھانی ہے یا گھر کو تقسیم کرنا ہے؟ نئے صوبے بنانے سے بھی کچھ حاصل نہیں ہوگا، صورتحال تقریباً ایسی ہی رہے گی۔