Royal TV

News you can trust

Advertisement

اب سوچ رہے ہوں گے کہ شاید کوئی نہر بہہ رہی ہے

اب سوچ رہے ہوں گے کہ شاید کوئی نہر بہہ رہی ہے یا دریا گزر رہا ہے، ارے نہیں با با یہ راولپنڈی کا وہی راجا بازار ہے جسے سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا پر اشتہارات کے ذریعے ’’ماڈل بازار‘‘ کے طور پر خوب پروموٹ کیا گیا۔‏لیکن کہتے ہیں نا، میک اپ کے ذریعے آپ اپنی جھریاں کتنی بھی چھپا لیں، لیکن منہ دھوتے ہی وہ جھریاں سامنے آ جاتی ہیں۔ یہی کچھ اس ماڈل بازار کے ساتھ ہوا۔ اوپر اوپر سے خوبصورت میک اپ کر دیا گیا، مگر پہلی ہی بارش نے سارا اصل چہرہ عوام کے سامنے رکھ دیا۔بہتر یہ ہوتا کہ پہلے ایک جامع پالیسی بنائی جاتی، نکاسیٔ آب کا مؤثر اور مستقل نظام بنایا جاتا، بنیادی مسائل حل کیے جاتے اور اس کے بعد کسی بازار کو ’’ماڈل‘‘ قرار دیا جاتا ‏اور اگر ترقیاتی کاموں کے فنڈز میں مبینہ کمیشن، ٹھیکوں پر ٹھیکے اور سیاسی تشہیر کو ترجیح دی جائے، تو پھر نتیجہ یہی نکلتا ہے۔ عوام کے پیسوں سے بننے والے منصوبوں کی اصل کارکردگی بارش کے ایک جھونکے سے ہی سامنے آ جاتی ہے۔‏بارش نے راجا بازار کو نہیں ڈبویا، بلکہ دعووں اور زمینی حقیقت کے درمیان فرق عوام کے سامنے ظاہر کر دیا۔