Royal TV

News you can trust

Advertisement

ایکسائز کےاہلکاروں کا جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم اختر کے ساتھ بدتمیزی، حراساں کرنے کی کوشش

کراچی میں ایکسائز پولیس نے عدالتی کارروائی میں مدالخلت، ایکسائز کےاہلکاروں کا جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم اختر کے ساتھ بدتمیزی، حراساں کرنے کی کوشش کی!
جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ نعیم اختر کا ایکسائز پولیس اسٹیشن پر چھاپہ؛ 24 گھنٹوں سے بے گناہ حراست میں رکھی گئی 2 خواتین سمیت 3 افراد کو بازياب کرا لیا گیا۔
کراچی کے علاقے کیماڑی میں واقع ایکسائز تھانے پر جوڈیشل مجسٹریٹ کے چھاپے کے دوران وکیل رضوان راجپر، وکیل علی شان آریجو اور وکیل رضا شر بھی موجود جبکہ بازياب کرائے جانے والوں میں شازیہ، شمیم اور بشیر شامل ہیں
ایکسائز پولیس نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے ساتھ بدتمیزی کی، جس پر جوڈیشل مجسٹریٹ نے 15 پولیس کو طلب کر کے ایکسائز کے 2 اہلکاروں سمیت پرائیوٹ اہلکار کو حراست میں لے لیا گیا
جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم اختر کے مطابق پرائیویٹ افراد کے ذریعے منشیات فروخت کرنے کے جھوٹے الزام کے تحت دو خواتین سمیت تین افراد کو حراست میں رکھا گیا تھا
ایکسائز پولیس کے پاس حراست میں لیے گئے افراد کے خلاف منشیات برآمدگی کے کوئی ثبوت موجود نہیں ہیں، جوڈیشل میجسٹریٹ
بے گناہ شہریوں کو حراست میں رکھ کر قید کرنے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی، جوڈیشل مجسٹریٹ