Royal TV

News you can trust

Advertisement

اختر مینگل سے چاغی دھماکوں کا پوچھا تو جواب ملا ’’مجھے پتہ نہیں‘‘ ڈاکٹر مالک بلوچ سے سی پیک کے مشرقی یا مغربی روٹ کا پوچھا تو انہوں نے بھی کہا مجھے پتہ نہیں ، سرفراز بگٹی، سمیت ماضی کی حکومتوں میں کوئی فرق نہیں، ہدایت الرحمٰن بلوچ

کوئٹہ جماعت اسلامی بلوچستان کے رہنما مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے کہا ہے کہ سرفراز بگٹی، سردار اختر جان مینگل اور ڈاکٹر مالک بلوچ سمیت ماضی میں قائم رہنے والی تمام حکومتوں میں کوئی بنیادی فرق نہیں، بلوچ اور پشتون عوام کو قوم پرستی کے نام پر دھوکہ دیا جاتا رہا ہے۔

اپنے ایک بیان میں مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے ماضی کی حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب سردار اختر جان مینگل وزیراعلیٰ
بلوچستان تھے تو ان سے چاغی میں ایٹمی دھماکوں کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا تھا کہ’’مجھے پتہ نہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سے سی پیک کے روٹ کے حوالے سے پوچھا گیا کہ یہ مشرقی ہوگا یا مغربی، تو ان کا جواب بھی یہی تھا کہ ’’مجھے پتہ نہیں‘‘۔مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے کہا کہ یہ لوگ قوم پرست رہے ہیں اور بلوچ و پشتون عوام کو دھوکہ دیتے رہے ہیں انہوں نے کہا کہ وہ عوام کے مسائل اور ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے۔بلٹ پروف گاڑی استعمال کرنے سے متعلق سوال پر مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے کہا کہ انہیں چاروں طرف سے خطرہ لاحق ہے، اسی لیے ایک دوست کے مشورے پر بلٹ پروف گاڑی خریدی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’ میں زندہ رہنا چاہتا ہوں، ظالموں کا مقابلہ کرنا چاہتا ہوں اور جلدی مرنا نہیں چاہتا۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ جان کی حفاظت ضروری ہے تاکہ وہ ظلم کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھ سکیں۔