کوئٹہ: صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست مخالف بیانیے اور دہشت گرد عناصر کی حمایت کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج ہوں گے اور گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عائشہ فیض کے خلاف ریاست مخالف بیانیے اور دہشت گردوں کی حمایت کے الزام میں محکمہ انسداد دہشت گردی نے مقدمہ درج کیا ہے جبکہ ان کی گرفتاری بھی قانون کے مطابق عمل میں لائی گئی ہے۔
میر ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ ریاست پاکستان کے خلاف اور دہشت گردی کی حمایت کرنے والوں کے خلاف قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔ جو بھی پاکستانی شہری ملک اور ریاست کو توڑنے کی بات کرے گا، اس کے خلاف مقدمہ بھی درج ہوگا اور گرفتاری بھی عمل میں آئے گی۔
صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہر پاکستانی شہری کو سیاستدانوں اور میرے خلاف پریس کانفرنس کرنے کا حق حاصل ہے، تاہم ریاست مخالف سرگرمیوں اور ملک دشمن عناصر کی حمایت کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے اور اس کا اپنا آئین اور قانون موجود ہے۔
پاکستان توڑنے، سیکیورٹی فورسز، شہریوں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو حکومت نے دہشت گرد قرار دیا ہے۔ میر ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ دہشت گرد قرار دیے گئے عناصر کے حق میں بات کی جائے گی یا ملک توڑنے والوں کے حق میں پریس کانفرنس کی جائے گی تو قانون حرکت میں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف روزانہ تقریبا 50 افراد بات کرتے ہیں، تاہم کسی کو محض تنقید یا سیاسی اختلاف کی بنیاد پر گرفتار نہیں کیا جاتا۔













