مذاکرات کے پہلے راؤنڈ کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے بتایا کہ وزیراعظم کی جانب سے تشکیل دی گئی حکومتی ٹیم کے ساتھ مذاکرات کا پہلا دور خوشگوار ماحول میں مکمل ہوا ہے، جس میں جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی سے معیشت پر پڑنے والے اثرات اور عوامی ریلیف کے حوالے سے چھ اہم تجاویز پیش کی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیٹرول اور ڈیزل پر 80 روپے براہ راست لیوی عائد ہے اور حکمرانوں کو اپنے اخراجات کم کر کے عوام کو ریلیف دینا چاہیے، کیونکہ اس کے لیے گنجائش موجود ہے۔ لیاقت بلوچ نے شکوہ کیا کہ سابقہ مذاکرات (آئی پی پیز اور بلوچستان لانگ مارچ) میں کیے گئے وعدوں پر عمل نہیں ہوا، اور ساتھ ہی یہ موقف بھی دہرایا کہ پرامن احتجاج سیاسی جماعتوں کا حق ہے، اس لیے حکومت کے سامنے تمام حقائق رکھنے کے باوجود ان کا دھرنا اور احتجاج جاری رہے گا۔ جماعت اسلامی نے حکومت کو تجاویز کا جائزہ لینے کے لیے تین دن کا وقت دیا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم قیمتوں کے تعین اور ناکام سبسڈیز کی پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کی سربراہی میں جماعت اسلامی کے وفد نے حکومت کو تجاویز و سفارشات پیش کر دیں۔













