Royal TV

News you can trust

Advertisement

رجب طیب اردوان کا 35-F طیاروں کےمعاملے پر ٹرمپ سے وعدہ پورا کرنے کا مطالبہ

ترک صدر رجب طیب اردوان اب بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایف 35 طیاروں کی فراہمی کے وعدے کے منتظر ہیں۔ اردوان گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے اس حوالے سے ’’وعدے‘‘ کا ذکر کر رہے ہیں، جبکہ الجزیرہ کو دیے گئے تازہ بیان میں بھی انہوں نے معاملہ عوامی سطح پر اٹھا کر امریکی صدر پر دباؤ برقرار رکھا ہے۔
ترکیہ کو 2019 میں روس سے ایس 400 دفاعی نظام خریدنے کے بعد ایف 35 پروگرام سے نکال دیا گیا تھا اور کیٹسا (CAATSA) کے تحت اس پر پابندیاں بھی عائد کی گئی تھیں۔ جولائی میں انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہ اجلاس کے موقع پر اردوان نے دعویٰ کیا تھا کہ ٹرمپ نے ذاتی طور پر انہیں 5 ایف 35 طیارے دینے کا وعدہ کیا ہے۔
تاہم ٹرمپ کے بیانات میں اس معاملے پر واضح وعدے کے بجائے محتاط مؤقف سامنے آیا ہے۔ امریکی قانون کے تحت ایف 35 طیاروں کی فروخت سے قبل واشنگٹن کو یہ تصدیق کرنا ہوگی کہ ترکی کے پاس روسی ایس 400 نظام موجود نہیں ہے۔ ترکی نے اب تک ایس 400 سے دستبرداری اختیار نہیں کی، جبکہ اطلاعات کے مطابق وہ اسے کسی دوسرے ملک کو منتقل کرنے کے لیے روس کی رضامندی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔یوں اردوان کا ’’وعدے‘‘ کا دعویٰ اور ٹرمپ کا ’’غور کرنے‘‘ کا مؤقف ایک جیسا نہیں، جبکہ ایف 35 طیاروں کی ممکنہ فروخت اب بھی کئی قانونی اور سفارتی رکاوٹوں میں گھری ہوئی ہے۔