Royal TV

News you can trust

Advertisement

نوشکی-کوئٹہ آر سی ڈی شاہراہ کھنڈر میں تبدیل، مسافر اور مریض شدید مشکلات کا شکار

یہ مناظر کسی صحرا یا جنگل کے نہیں، بلکہ نوشکی-کوئٹہ شاہراہ پر سفر کی ابتر صورتحال کے ہیں۔ این-40 (پاک-ایران آر سی ڈی شاہراہ) ایران کے راستے پاکستان کو دنیا کے کئی ممالک سے جوڑتی ہے۔ یہ شاہراہ چاغی، نوشکی، خاران اور مستونگ اضلاع کے عوام کے علاوہ پاکستان، ایران اور افغانستان کے درمیان آمدورفت کے لیے استعمال ہوتی ہے، جبکہ سیندک اور ریکوڈک کے اہم منصوبوں کے لیے بھی یہی مرکزی راستہ ہے۔
اس اہم شاہراہ پر روزانہ سینکڑوں مسافر اور مال بردار گاڑیاں گزرتی ہیں۔ حتیٰ کہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا مریض اور زخمی بھی ایمبولینس کے ذریعے اسی خستہ حال سڑک سے ٹراما سینٹر یا ہسپتال منتقل کیے جاتے ہیں۔ یہی نہیں، بلکہ کراچی اور کوئٹہ کے ہسپتالوں میں انتقال کر جانے والے افراد کے جسدِ خاکی بھی اسی شاہراہ پر سفر کر کے ان کے گھروں اور قبرستانوں تک پہنچائے جاتے ہیں۔
اس شاہراہ کی یہ حالت کسی قدرتی آفت یا تعمیراتی کام کی وجہ سے نہیں ہوئی، بلکہ کوئٹہ-تفتان آر سی ڈی شاہراہ پر واقع سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں اور کیمپوں کی حفاظت کی خاطر مختلف مقامات پر پختہ سڑک کو بند کرکے اسے اس حال تک پہنچایا گیا ہے۔