Royal TV

News you can trust

Advertisement

مستونگ کی اہم سڑکیں 20 روز سے زائد عرصے سے بند، شہری، زمیندار اور ٹرانسپورٹرز شدید مشکلات کا شکار

مستونگ: کلی کاریز نوتھ، کاریز سور، شیرین آب، صدیق آباد، تفتان روٹ جانے والی اہم شاہراہ، کیڈٹ کالج روڈ اور فیض آباد روڈ سمیت متعدد اہم راستے ایف سی کی جانب سے گزشتہ 20 روز سے زائد عرصے سے بند ہیں، مگر تاحال ان سڑکوں کو عوام کے لیے نہیں کھولا جاسکا، جس کے باعث متعلقہ علاقوں کے مکینوں، زمینداروں، کاروباری حضرات، طلباء، مریضوں اور ٹرانسپورٹرز کو شدید مشکلات اور اذیت کا سامنا ہے۔سڑکوں کی مسلسل بندش کے باعث شہریوں کو ٹھل درے خان اور دیگر گلی کوچوں کے کچے، ناہموار اور انتہائی خطرناک متبادل راستوں سے سفر کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ خصوصاً رات کے اوقات میں ان غیر محفوظ راستوں پر چوری، ڈکیتی اور دیگر ناخوشگوار واقعات کا شدید خدشہ موجود ہے۔دوسری جانب مسلسل ٹریفک کا دباؤ اب رہائشی علاقوں کی گلیوں تک پہنچ گیا ہے، جس سے مکین شدید پریشان ہیں اور متعدد علاقوں کے رہائشی ٹریفک کی آمدورفت روکنے کے لیے اپنی گلی کوچوں میں رکاوٹیں کھڑی کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں، جس سے صورتحال مزید گھمبیر ہونے کا خدشہ ہے۔علاقہ مکینوں اور عمائدین نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو ہفتوں تک بنیادی آمدورفت کے راستوں سے محروم رکھنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ سڑکوں کی بندش سے نہ صرف شہریوں کی روزمرہ زندگی مفلوج ہو رہی ہے بلکہ زمینداروں کو اپنی زرعی زمینوں تک رسائی، کاروباری افراد کو کاروبار اور ٹرانسپورٹرز کو آمدورفت میں ناقابلِ برداشت مشکلات کا سامنا ہے۔علاقہ عمائدین اور مکینوں نے ایف سی حکام، ڈپٹی کمشنر مستونگ اور ایس پی مستونگ سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مشکلات اور امن و امان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام بند راستوں کو فوری طور پر کھولا جائے، بصورت دیگر عوامی مشکلات میں اضافے کی ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔عوام کا مطالبہ ہے کہ سکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ شہریوں کے بنیادی حقِ آمدورفت کو بھی یقینی بنایا جائے اور بند شاہراہوں کی بحالی میں مزید تاخیر سے گریز کیا جائے۔