کوئٹہ میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے زیر اہتمام منعقدہ پشتون قومی جرگے کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ یہ جرگہ بنوں قومی جرگے کے فیصلوں کا تسلسل اور کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پوری پشتون قوم کے بقا کا ضامن ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں، نواب اور قبائلی مشران سر جوڑ کر قومی لائحہ عمل بنائیں۔
موجودہ ملکی صورتحال اور حقوق
محمود خان اچکزئی نے واضح کیا کہ پاکستان پنجابی، سندھی، بلوچ، سرائیکی اور پشتون سب کا سانجھا ملک ہے جہاں کوئی آقا یا غلام نہیں۔ آئین اور قانون کے مطابق تمام قومیتوں کو برابری کی بنیاد پر حقوق ملنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ برٹش بلوچستان اور تاریخی پشتون اضلاع (کوئٹہ، پشین، لورالائی، ژوب، چمن، ہرنائی، زیارت) کا اپنا الگ جغرافیائی وجود ہے۔ کوئٹہ سمیت پشتون پٹی میں اراضی پر غیر قانونی قبضے اور بازئی قبیلے کی ہزاروں ایکڑ زمینوں پر زبردستی ڈیمارکیشن کے مسائل فوری حل کیے جائیں۔
قدرتی وسائل اور نوجوانوں کا مستقبل
پشتونخوا میپ کے چیئرمین نے خطے کے قدرتی خزانوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہماری پہاڑیاں لیتھیم، سونا، چاندی، تانبا اور نایاب معدنیات سے بھری پڑی ہیں جہاں ایک ایک کلو لیتھیم لاکھوں ڈالرز کی ہے، مگر اتنے بے پناہ وسائل کے باوجود ہمارے باصلاحیت نوجوان دبئی میں مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی سے بھیک نہیں مانگتے بلکہ اپنی دھرتی کے وسائل پر اپنا جائز اور آئینی حق مانگتے ہیں۔
امن، خطے کی سیاست اور بلوچ قوم سے تعلقات
بلوچ اور پشتون تعلقات کے حوالے سے انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ یہ جرگہ کسی بھی طور پر بلوچوں کے خلاف نہیں ہے۔ بلوچ ہماری طرح اپنی تاریخی سرزمین پر آباد ہیں، دونوں قوموں کے درمیان کوئی دشمنی یا جنگ نہیں ہے بلکہ ہم صدیوں کے ہمسائے ہیں اور ہر معاملے پر برادرانہ بات چیت چاہتے ہیں۔ افغانستان اور خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا نے پراکسی جنگوں سے ہمارے ملک کو بارود کا ڈھیر بنا دیا ہے۔ پشتون ہرگز دہشت گرد نہیں بلکہ ایک مہمان نواز قوم ہیں جن کے مہمان نوازی کے کلچر کو بدنام کیا گیا۔
کوئٹہ میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے زیر اہتمام منعقدہ پشتون قومی جرگے کے افتتاحی سیشن سے خطاب













