بایزید خروٹی کے خلاف مقدمہ، بلوچستان ڈیجیٹل میڈیا فورم کی شدید مذمت
کوئٹہ: بلوچستان ڈیجیٹل میڈیا فورم نے بایزید خروٹی کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے بغیر کسی ثبوت کے مقدمہ درج کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام ڈیجیٹل میڈیا کو کنٹرول کرنے کی سازش ہے۔ فورم نے کہا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے بعض افسران ذاتی حیثیت میں مقدمات درج کرکے ادارے کو یرغمال بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں، جو نہ صرف قابل مذمت بلکہ قانون اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں کے بھی منافی ہے۔
فورم نے کہا کہ بایزید خروٹی کے خلاف مقدمے میں اگر کوئی الزام ہے تو اسے ٹھوس شواہد اور قانونی تقاضوں کے مطابق ثابت کیا جائے۔ محض الزامات کی بنیاد پر مقدمات قائم کرکے صحافیوں اور ڈیجیٹل میڈیا کارکنوں کو دباؤ میں لانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ اداروں کو اپنی طاقت کا استعمال شہریوں اور صحافیوں کو خاموش کرانے کے بجائے قانون کی بالادستی یقینی بنانے کے لیے کرنا چاہیے۔بلوچستان ڈیجیٹل میڈیا فورم نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا کو کنٹرول کرنے یا اس کی آواز دبانے کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔ عوامی مسائل، کرپشن، انتظامی نااہلی اور دیگر اہم معاملات کو اجاگر کرنا ڈیجیٹل میڈیا کا بنیادی کردار ہے، جس سے کسی بھی دباؤ یا مقدمے کے ذریعے دستبردار نہیں ہوا جاسکتا۔فورم نے مطالبہ کیا کہ بایزید خروٹی کے خلاف درج مقدمے کی فوری طور پر غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور اگر الزامات کے ٹھوس شواہد موجود نہیں تو مقدمہ واپس لیا جائے۔ فورم نے واضح کیا کہ صحافیوں اور ڈیجیٹل میڈیا کارکنوں کو ہراساں کرنے، دبانے یا مقدمات میں الجھانے کی کوششوں کے خلاف بلوچستان ڈیجیٹل میڈیا فورم اپنی آواز ہر متعلقہ فورم پر بلند کرے گا۔فورم نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ آزادی اظہار رائے اور آزادی صحافت کسی فرد یا ادارے کی جاگیر نہیں بلکہ عوام کا بنیادی آئینی حق ہے، اور اس حق کو مقدمات اور دباؤ کے ذریعے سلب کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔













